3 نومبر 2014 - 23:10
عراق، جرف الصخر کی آزادی کے دوران، 400 دہشت گرد پکڑے گئے

عراق کے صوبہ بابل کے جرف الصخر علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی مہم کے دوران تكفيري گروہ داعش کے 400 دہشت گرد پکڑے گئے۔ حزب اللہ عراق کے سکریٹری جنرل حسین الرماحي نے اس بات کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ فلوجہ اور تكريت بھی جلد ہی آزاد ہو جائیں گے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراق کے صوبہ بابل کے جرف الصخر علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی مہم کے دوران تكفيري گروہ داعش کے 400 دہشت گرد پکڑے گئے۔ حزب اللہ عراق کے سکریٹری جنرل حسین الرماحي نے اس بات کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ فلوجہ اور تكريت بھی جلد ہی آزاد ہو جائیں گے۔ 
انہوں نے کہا کہ داعش کے خلاف سیکورٹی فورسز، رضاکاروں اور مزاحمتی گروہوں نے جو کامیابیاں حاصل کی ہے وہ اس گروہ کے قبضے میں موجود دوسرے علاقوں میں بھی حاصل ہوں گی۔ اسی طرح جرف الصخر کو آزاد کرانے کے لئے جو اسٹرٹیجی اختیار کی گی، وہ ہر میدان کے مطابق کچھ تبدیلی کے ساتھ اپنائی جائے گی۔

حسین الرماحي نے کہا کہ صوبہ بابل میں بغداد اور کربلا کے درمیان واقع جرف الصخر کی آزادی کے لئے اپنائي گئی ٹیكٹک صد فیصد کامیاب رہی اس لئے یہی ٹیكٹک داعش کے خلاف دیگر علاقوں کو آزاد کرانے کے لئے بھی اپنائیں گے۔
حزب اللہ عراق کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ مزاحمت کار گروہوں میں حزب اللہ، الحق بریگیڈ، السلام بریگیڈ اور بدر بریگيڈ کے مجاہدین نے مزید دو علاقوں کو جہاں داعش کے کچھ عناصر بچے ہوئے تھے، ان کے وجود سے پاک کر ان علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرف الصخر کی آزادی کے لئے ایک تو فوجی مہم سے خصوصی اور دوسرے علاقے سے مخصوص ٹیكٹک اپنائي گئی اور یہ کامیابی دیگر علاقوں میں بھی ملنے والی ہے۔
حسین الرماحي نے کہا کہ جرف الصخر میں فوجی مہم کے دوران داعش کے400 دہشت گردوں نے ہتھیار ڈالے، جن سے عراقی سیکورٹی فورسز تحقیقات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات کی اطلاع دیتے ہوئے کہ فلوجہ اور تكريت میں داعش کے دہشت گردوں کے خلاف حزب اللہ کے مجاہد پیشرفت کر رہے ہیں، کہا کہ ہم اس وقت اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ان دونوں شہروں میں کس شہر کو داعش کو نقصان پہنچانے کے پہلے انتخاب کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ سیکورٹی فورسز اور رضاکار موصل سٹی کے قریبی علاقوں میں تعینات ہیں اور سامراء میں تكريت کی جانب پیشرفت کر رہے ہیں۔
.......

/169